آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث ملک کا ترقیاتی بجٹ شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں نمایاں کمی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے ورکنگ پیپر کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے مختص ایک ہزار ارب روپے میں سے اب تک صرف 528 ارب روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق حکومت نے مالی سال 2025-26 کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے تھے، تاہم جولائی 2025 سے 25 مئی 2026 تک وزارتوں، ڈویژنوں اور مختلف انتظامی اداروں نے مجموعی طور پر 528 ارب روپے استعمال کیے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاری مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد سے کم ہو کر 0.6 فیصد تک رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون زیر عمل ہیں، جبکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے 10 ہزار ارب روپے درکار ہوں گے۔
احسن اقبال کے مطابق مالی سال 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہونے کے باعث صوبے مالی طور پر نسبتاً مضبوط ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مختلف وزارتوں نے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 3 ہزار ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم وفاقی ترقیاتی پروگرام اب بھی ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باعث آئندہ مالی سال میں صرف منتخب اور ترجیحی منصوبوں پر ہی کام جاری رکھا جا سکے گا۔























































































