وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کو مزید صوبوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ صوبائی اسمبلی اس حوالے سے متعدد متفقہ قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
کراچی میں مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس 2026 کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کئی مرتبہ صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں اس مؤقف میں کوئی تبدیلی آتی ہے، جس کے امکانات فی الحال نظر نہیں آتے، تو اس معاملے پر بات کی جا سکتی ہے۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ کو مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان پیپلز پارٹی صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے کی تقسیم کے معاملے پر کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کو جنم نہیں لینے دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔





















































































